تاریخ شائع کریں2022 7 October گھنٹہ 14:36
خبر کا کوڈ : 568058

جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایک نئی مشترکہ مشق کا آغاز

جنوبی کوریا اور امریکہ نے ایک بار پھر مشرقی سمندر کے پانیوں میں مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کیا تاکہ دنیا کو شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اپنا اتحاد ظاہر کیا جا سکے۔
جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایک نئی مشترکہ مشق کا آغاز
جنوبی کوریا اور امریکہ نے ایک بار پھر مشرقی سمندر کے پانیوں میں مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد کیا تاکہ دنیا کو شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اپنا اتحاد ظاہر کیا جا سکے۔

یہ دو روزہ مشق اس جمعہ سے مشرقی سمندر کے بین الاقوامی پانیوں میں شروع ہونے والی ہے۔

اس کے علاوہ اس مشق میں امریکی جوہری طیارہ بردار بحری جہاز "یو۔ ایس۔ ایس رونالڈ ریگن کو لے جایا گیا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے اس سال 7 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ یہ ملک مشرقی سمندر کے پانیوں میں امریکہ اور جاپان کے ساتھ سہ فریقی مشق کرے گا۔

کورین ہیرالڈ کے مطابق پانچ سالوں میں پہلی بار امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان جزیرہ نما کوریا کے قریب بحری مشق کریں گے تاکہ شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا جا سکے۔

قبل ازیں واشنگٹن اور سیئول نے اعلان کیا تھا کہ جنوبی کوریا کی بحریہ، امریکی بحریہ اور جاپان میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس مشرقی سمندر کے بین الاقوامی پانیوں میں سہ فریقی مشقیں کرنے جا رہے ہیں۔

جنوبی کوریا کی بحریہ نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ یہ مشق اس کے شمالی پڑوسی کی جانب سے آبدوز کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ملک کی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے منعقد کی جائے گی۔

اس بیان میں سب میرین بیلسٹک میزائل (SLBM) کے میدان میں اس ملک کی صلاحیتوں میں اضافے کا خاص طور پر ذکر ہے۔

جنوبی کوریا کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس سہ فریقی مشق کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل خطرات سے نمٹنا ہے۔

گزشتہ دنوں شمالی کوریا نے مشرقی سمندر میں ان تینوں ممالک کی فوجی نقل و حرکت کے جواب میں کم فاصلے تک مار کرنے والے تین میزائلوں کا تجربہ کیا۔

تینوں ممالک کی آخری سہ فریقی اینٹی سب میرین مشق اپریل 2017 میں جیجو جزیرے کے جنوب میں بین الاقوامی پانیوں میں منعقد ہوئی تھی
http://www.taghribnews.com/vdcbswbswrhb0gp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس