تاریخ شائع کریں2022 7 October گھنٹہ 12:40
خبر کا کوڈ : 568042

معاشرے کی ترقی اور پیشرفت صرف امنیت کے سائے میں ہی تحقق پزیر ہوتی ہے

آیت اللہ نوری ہمدانی نے ملک کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان واقعات میں دشمنوں نے کثیر رقم خرچ کر کے اور مخالف میڈیا کے وسیع پروپیگنڈے سے نظامِ مقدسِ اسلامی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔
معاشرے کی ترقی اور پیشرفت صرف امنیت کے سائے میں ہی تحقق پزیر ہوتی ہے
مرجع تقلید حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے ملکی پولیس فورس کے کمانڈر انچیف سردار اشتری سے ملاقات میں انہیں ماہ ربیع الاول کے بابرکت ایام کی مبارکباد پیش کی اور ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا: معاشرے میں امن و امان قائم کرنے میں پولیس فورس کا اہم کردار ہے۔

اس مرجع تقلید نے معاشرے میں امن و سلامتی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مزید کہا: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "ثَلَاثَةُ أَشْیَاءَ یَحْتَاجُ النَّاسُ طُرّاً إِلَیْهَا الْأَمْنُ وَ الْعَدْلُ وَ الْخِصْبُ" یعنی ہر معاشرے میں لوگوں کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: امنیت، عدالت، اور نعمتوں کی فراوانی۔ واضح رہے کہ یہ تینوں معاملات براہ راست آپ کی ذمہ داری سے متعلق ہیں۔

انہوں نے کہا: معاشرے کی ترقی اور پیشرفت صرف امنیت کے سائے میں ہی تحقق پزیر ہوتی ہے۔ انصاف کا مطلب ہے لوگوں کے حقوق کا احترام اور مظلوم کا حق واپس دلانا جس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے اور تیسری چیز نعمتوں کی کثرت اور لوگوں کی ضروریات کی برآوری ہے۔

آیت اللہ نوری ہمدانی نے حالیہ مسائل میں ملکی پولیس فورس کی طرف سے انجام دئے گئے اقدامات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: خدا کا شکر ہے کہ آپ اور باقی امنیتی ادارے معاشرے میں سلامتی اور استحکام قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ ملکی سلامتی اور استحکام اور امنیت کی برقراری کے سلسلہ میں آپ لوگوں کا ہر قدم عبادت شمار ہوتا ہے۔

آیت اللہ نوری ہمدانی نے ملک کے حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان واقعات میں دشمنوں نے کثیر رقم خرچ کر کے اور مخالف میڈیا کے وسیع پروپیگنڈے سے نظامِ مقدسِ اسلامی پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔

اس مرجع تقلید نے کہا: بدقسمتی سے موجودہ دنیا میں انسانی حقوق کی اس تحریک کو عالمی استکبار کے ہاتھوں میں تھوپ دیا گیا ہے تاکہ وہ آزادی پسند اقوام پر اپنے ناجائز مطالبات مسلط کر سکیں۔

حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے اسلامی نظام میں لوگوں پر توجہ کو ملکی حکام کا بنیادی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا: حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے مالک اشتر سے فرمایا: "وَ أَشْعِرْ قَلْبَکَ الرَّحْمَةَ لِلرَّعِیَّةِ وَ الْمَحَبَّةَ لَهُمْ وَ اللُّطْفَ بِهِمْ" یعنی "اور لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان سے محبت کرنا اور ان کے ساتھ مہربانی کو اپنے کام کی اولین ترجیح قرار دینا"۔ واضح رہے کہ اسلام انسان کے بارے میں وسیع نظریہ رکھتا ہے۔

اس مرجع تقلید نے مجرموں اور سیکورٹی میں خلل ڈالنے والوں کے ساتھ نمٹنے کو بہت ضروری قرار دیا اور آیت "وَلَکُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیَاةٌ یَا أُولِی الْأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ" کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے تاکید کی کہ حالیہ واقعات میں کچھ افراد جذبات کے رو میں بہہ جانے کی وجہ سے اور کچھ دوسروں نے دشمن میڈیا سے متاثر ہو کر ایسے مذموم اقدامات انجام دئے ہیں لہذا ان افراد کا حساب اسلامی نظام کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی کرنے والوں، ہٹ دھرمی کے ساتھ یہ قبیح اقدامات انجام دینے والوں اور لوگوں کو مارنے والوں سے الگ ہونا چاہئے۔
http://www.taghribnews.com/vdceev8nwjh8p7i.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس