تاریخ شائع کریں2022 6 October گھنٹہ 23:17
خبر کا کوڈ : 567992

شامی فوج اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپ

بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ السباط گاؤں کے راستے تل براق کے علاقے میں جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن شامی افواج کی مزاحمت کے باعث پسپائی پر مجبور ہو گیا۔
شامی فوج اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپ
 شام کے شمال مشرق میں واقع کرد شہر قامشلی کے جنوبی مضافات میں شامی فوج اور امریکی افواج کے درمیان جھڑپ کی اطلاع دی ہے۔

شامی ٹی وی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ امریکی فضائیہ نے مذکورہ علاقے میں فضائی کارروائی کی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

دوسری جانب دمشق میں المیادین ٹی وی چینل کے رپورٹر نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ اور کچھ دوسرے خاندان کو امریکی فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔

اسپوتنک خبر رساں ایجنسی کے مطابق شامی فوج کے زیر کنٹرول گاؤں میں امریکی افواج کی جانب سے فضائی آپریشن (پیراشوٹ لینڈنگ) کے بعد قامشلی میں ایک تنازعہ پیدا ہوا۔

المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے مذکورہ ذرائع نے تاکید کی کہ اس کارروائی میں قامشلی کے مشرقی مضافات میں واقع حومہ گاؤں سے تعلق رکھنے والا راکان ابو حائل ہوائی کارروائی کے بعد امریکی افواج کے ساتھ جھڑپ کے دوران مارا گیا۔

متذکرہ ذرائع نے بتایا کہ امریکی فورسز نے اس خاندان کو گرفتار کیا جس نے راکان ابو حائل اور کچھ دیہاتیوں کی میزبانی کی تھی۔

شامی فوجیوں کے ایک گروپ نے جمعہ 9 اکتوبر کی رات کو الحسکہ کے شمال مشرقی مضافات میں ایک چوکی پر امریکی فوجی قافلے کا راستہ روک دیا۔

بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل یہ قافلہ السباط گاؤں کے راستے تل براق کے علاقے میں جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن شامی افواج کی مزاحمت کے باعث پسپائی پر مجبور ہو گیا۔

اس سے ایک ہفتہ قبل ایک امریکی فوجی قافلہ الحسکہ کے شمال مغربی مضافاتی علاقے تل تمر کے نواحی گاؤں الغرجانہ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اسے شامی افواج کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور شامی فوج نے انہیں مجبور کر دیا۔ پیچھے ہٹنا

شام کے مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ملک کے مشرق میں تعینات امریکی افواج شام کے تیل اور اناج کی کھیپ ہمسایہ ممالک کو اسمگل کر رہی ہیں۔

شام کی تیل کی وزارت کے اعدادوشمار کے مطابق مشرقی علاقوں میں امریکی قابض افواج اور اس کے کرائے کے فوجی روزانہ 70 ہزار بیرل شامی تیل چوری کرتے ہیں۔

شامی حکومت نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ شام کے مشرق اور شمال مشرق میں امریکی افواج اور ان سے وابستہ افواج کا ملک کے تیل کو لوٹنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں ہے اور انہیں اس علاقے سے نکل جانا چاہیے۔

شام کے خلاف ایک دہائی کی جنگ کے دوران امریکہ نے دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ کے بہانے اس ملک میں علیحدگی پسند ملیشیا کی حمایت کی ہے اور شام کے تیل سے مالا مال علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

امریکی دہشت گرد قوتوں نے کرد ڈیموکریٹک فورسز "کیو ایس ڈی" کی ملی بھگت سے گذشتہ مہینوں کے دوران الجزیرہ کے علاقے سے چوری شدہ شامی تیل لے جانے والے سیکڑوں ٹینکروں کو ہٹا کر فروخت کیا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdchwqnmi23n-wd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس