تاریخ شائع کریں2022 29 September گھنٹہ 13:22
خبر کا کوڈ : 567111

جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ بحری مشق

 گزشتہ پانچ سالوں میں پہلی بار امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان جزیرہ نما کوریا کے قریب بحری مشق کریں گے تاکہ شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا جا سکے۔
جنوبی کوریا، جاپان اور امریکہ کے درمیان مشترکہ بحری مشق
جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک مشرقی سمندر کے پانیوں میں امریکہ اور جاپان کے ساتھ سہ فریقی مشقیں کرے گا۔

 گزشتہ پانچ سالوں میں پہلی بار امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان جزیرہ نما کوریا کے قریب بحری مشق کریں گے تاکہ شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کیا جا سکے۔

واشنگٹن اور سیول نے جمعرات کو اعلان کیا کہ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کی میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس کی بحری افواج جمعہ کو مشرقی سمندر کے بین الاقوامی پانیوں میں سہ فریقی مشقیں کرنے والی ہیں۔

جنوبی کوریا کی بحریہ نے بھی ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ یہ مشق اس کے شمالی پڑوسی کی جانب سے آبدوز کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ملک کی فوجی طاقت کو مضبوط کرنے کے لیے منعقد کی جائے گی۔

اس بیان میں سب میرین بیلسٹک میزائل (SLBM) کے میدان میں اس ملک کی صلاحیتوں میں اضافے کا خاص طور پر ذکر ہے۔

جنوبی کوریا کی بحریہ نے کہا ہے کہ اس سہ فریقی مشق کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل خطرات سے نمٹنا ہے۔

گزشتہ دنوں شمالی کوریا نے مشرقی سمندر میں ان تینوں ممالک کی فوجی نقل و حرکت کے جواب میں کم فاصلے تک مار کرنے والے تین میزائلوں کا تجربہ کیا۔

جنوبی کوریا اور امریکہ کی بحری افواج جمعرات کو بحری مشقیں کرنے والی تھیں۔

جمعے کو ہونے والی مشق میں امریکی بحریہ کے جنگی جہاز یو ایس ایس رونالڈ ریگن کے علاوہ جاپان کے آساہی جہاز اور جنوبی کوریا کا مونومو جہاز بھی حصہ لیں گے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے جمعرات کو ایک الگ بیان میں ان سہ فریقی فوجی مشقوں کو دوبارہ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تینوں ممالک کی آخری سہ فریقی اینٹی سب میرین مشق اپریل 2017 میں جیجو جزیرے کے جنوب میں بین الاقوامی پانیوں میں منعقد ہوئی تھی۔
http://www.taghribnews.com/vdca60nm649ni61.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس