تاریخ شائع کریں2022 26 May گھنٹہ 00:13
خبر کا کوڈ : 551028

ایرانی ٹوئٹر صارفین کا آبادان حادثے سے متعلق برطانوی سفیر کے ریماکس پر شدید غصہ

 ایرانی ٹوئٹر صارفین نے جنوبی صوبے خوزستان کے شہر آبادان کے حالیہ المناک حادثے سے متعلق برطانوی سفیر کے ریماکس پر شدید غصہ کا اظہار کرلیا۔
ایرانی ٹوئٹر صارفین کا آبادان حادثے سے متعلق برطانوی سفیر کے ریماکس پر شدید غصہ
 ایرانی ٹوئٹر صارفین نے جنوبی صوبے خوزستان کے شہر آبادان کے حالیہ المناک حادثے سے متعلق برطانوی سفیر کے ریماکس پر شدید غصہ کا اظہار کرلیا۔

"میں برطانوی عوام کی طرف سے، آبادان کے لوگوں، خاص طور پر "متروپل" حادثے کے متاثرین کے ساتھ دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔"؛ یہ اس پیغام کا متن ہے جو تہران میں تعینات برطانوی سفیر "سایمون شرکلیف" نے آبادان میں متروپل کی عمارت کے گرنے کے بعد ٹویٹ کیا تھا۔

آبادان متروپل کا جڑواں ٹاور پیر کو دوپہر کے وقت گر گیا۔ اب تک 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 37 زخمی ہو چکے ہیں

برطانوی سفیر کی جانب سے اس ٹوئٹ کو جاری کیے جانے پر ٹوئٹر پر ایرانی صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔

اس حوالے سے ایک صارف نے کہا ہے کہ "تعزیت کے لیے آپ کا شکریہ۔ میں ایرانی عوام کے خلاف برطانوی جرائم کی تاریخ کو یاد نہیں کرنا چاہتا۔ مستقبل کے لیے، میں کہتا ہوں کہ اگر آپ ایرانی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھنے میں ایماندار ہیں تو ایرانی عوام کیخلاف عائد پابندیاں ہٹا دیں۔ بس۔"

ایک اور صارف نے مزید کہا کہ" آپ کو ایران میں قبضے، قحط اور 10ملین لوگوں کی نسل کشی کے بارے میں کیا خیال ہے؟! ہمارے آدھے کے قریب ہم وطن آپ کے ہاتھوں مارے گئے۔"

"تمہاری تعزیت نہ قابل قبول ہے اور نہ قابلِ اعتبار،" "شیر کے دکھ پر لومڑی کی ہمدردی۔۔۔ ایک ایسی چال ہے جس میں سارے راز کھل جاتے ہیں،" "ہمیں شیطان کی دعاؤں کی کوئی ضرورت نہیں، ہم نہ معاف کرتے ہیں نہ بھولتے ہیں۔"؛ یہ بھی برطانوی سفیر کے ٹوئٹر پیغام پر دیگر ردعمل ہیں۔

ایک اور ایرانی صارف نے برطانوی سفیر کے جواب میں کہا ہے کہ "1- 1296سے 1298 کے سالوں میں قحط اور خوراک کی پابندیوں کی وجہ سے 25 فیصد سے زیادہ اور 40 فیصد تک ایرانی آبادی کا قتل عام کیا گیا۔2- 25 اگست 1941 کو برطانوی افواج کی آبادان پر بمباری اور آبادان شہر کی لوٹ مار 3- سالانہ منافع کا صرف 16 فیصد واپس کر کے 60 سالوں تک ایرانی تیل کی لوٹ مار"

ایک اور شخص نے اس ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے کہ "بہتر ہے کہ انگریزوں کے ہاتھوں ایک کروڑ ایرانیوں کی نسل کشی پر پہلے معافی مانگ لی جائے"

ایک اور صارف نے نوٹ کیا کہ "ہماری تاریخ آپ کی دھوکہ دہی اور چھرا ماروں سے بھری پڑی ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ آپ کی تعزیت مخلصانہ ہے، اب میں اس کتاب کا صفحہ پڑھ رہا ہوں جو آپ سے متعلق ہے۔"

ایک اور صارف نے ایران کیخلاف مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران صدام کی برطانوی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ایران عراق جنگ میں برطانوی بموں سے جاں بحق ہونے والی بستیاں، حالیہ گرگئی عمارت سے دس گنا زیادہ ہیں۔آپ کو صدام کی حمایت سے ایک ایسے جرم میں شریک ہونے پر معافی مانگنی ہوگی اور شرمسار ہونی ہوگی۔" اور ایک اور شخص نے مزید کہا کہ "جب آپ نے صدام کو بم دے کر وہ ایرانی عوام کیخلاف بمباری کر رہے تھے تو کیا آپ نے آبادان کے لوگوں سے تعزیت بھی کی؟؟؟"

ایک اور صارف نے کہا ہے کہ "آبادان کے لوگوں کی طرف سے برطانوی سامراجیوں کو کہتے ہیں کہ ہم آبادان کے لوگوں کے خلاف آپ کے جرائم کی یادوں کو نہیں بھولیں گے۔ آپ کے سابق وزیر خارجہ "جک سٹرا" کی کتاب دی انگلش جاب، کو دیکھیں"

ایک اور شخص نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر مزید کہا کہ "ایرانی عوام کے خلاف سینکڑوں سالوں کے جرائم اور بددیانتی نے برطانیہ کو رائے عامہ میں ایک "بوڑھی لومڑی" میں تبدیل کر دیا ہے! آب فی الحال ایران کیخلاف پابندیوں کو ہٹادیں، ٹوئٹر میں اظہار ہمدردی پیش کش۔"

ایک اور صارف نے کہا کہ "چھوٹے برطانیہ کے سفیر! آپ نے خوراک اور ادویات کے میدان میں بھی ایرانی قوم کا بائیکاٹ کیا اور اپنے تمام کیے گئے وعدوں کیخلاف ورزی کی؛ اس میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت، صدام کی جارح حکومت کی حمایت، ایران پر قبضہ کرنے اور 57 سالوں سے نفرت انگیز پہلوی حکمرانوں کو پلانے کے جرم اور تمام سامراجی معاہدوں کا اضافہ کریں!"
http://www.taghribnews.com/vdcau6nma49nmw1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس