تاریخ شائع کریں2022 17 January گھنٹہ 23:59
خبر کا کوڈ : 534889

ایران کا ای سی او علاقائی سرمایہ کاروں کو قابل تجدید پاور پلانٹ کے قیام کا خیر مقدم

اس موقع پر ایران الیکٹرسٹی نیٹ ورک مینجمنٹ کمپنی کے الیکٹرسٹی مارکیٹ کنٹریکٹس کے ڈائریکٹر "رضا ظریفی" اور وزارت توانائی میں ای سی او ڈیسک کی سربراہ "نرگس بہرامی" نے بجلی اور توانائی کے شعبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندوں کی حیثیت سے 2022 کے تعاون کے محوروں کا ذکر کیا
ایران کا ای سی او علاقائی سرمایہ کاروں کو قابل تجدید پاور پلانٹ کے قیام کا خیر مقدم
 ای سی او ریجنل پلاننگ کونسل کے 32 ویں اجلاس کا رکن ممالک کی فزیکل اور ورچوئل شرکت سے انعقاد کیا گیا جس میں ایران نے ملک کی قابل تجدید توانائی میں رکن ممالک کے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ای سی او ریجنل پلاننگ کونسل کے 32 ویں اجلاس کا آج بروز پیر کو ایران، افغانستان، ترکی، پاکستان، آذربائیجان، ترکمانستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت ای سی او کے رکن ممالک کے نمائندوں کی فزیکل اور ورچوئل شرکت سے تہران میں واقع ای سی او سیکرٹریٹ  میں انعقاد کیا گیا؛ یہ اجلاس 26 جنوری تک جاری رہے گا۔

اس اجلاس میں ایران الیکٹریسیٹی نیٹ ورک مینجمنٹ کمپنی کی الیکٹرسٹی مارکیٹ پرفارمنس پر نگرانی اور کنٹرول کے ڈائریکٹر "ایمان رحمتی" کو ای سی او کے رکن ممالک کے درمیان توانائی، کان کنی اور ماحولیات کے اجلاس کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔

اس موقع پر ایران الیکٹرسٹی نیٹ ورک مینجمنٹ کمپنی کے الیکٹرسٹی مارکیٹ کنٹریکٹس کے ڈائریکٹر "رضا ظریفی" اور وزارت توانائی میں ای سی او ڈیسک کی سربراہ "نرگس بہرامی" نے بجلی اور توانائی کے شعبے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندوں کی حیثیت سے 2022 کے تعاون کے محوروں کا ذکر کیا

انہوں نے "علاقائی بجلی کی منڈی، بجلی کی تجارت، بجلی کی ٹرانزٹ اور ہنگامی امداد کو حاصل کرنے کیلئے رکن ممالک کے بجلی کی ترسیل کے نیٹ ورک کی صلاحیت کو بروئے کار لانا"، "آپریشن اور تربیتی کورسز کے انعقاد میں مشترکہ تجربات کا استعمال"، "سہولیات اور تیز رفتاری" کے عنوانات پر۔ ای سی او ریجنل الیکٹرسٹی مارکیٹ پروجیکٹ"، "قابل تجدید توانائی کی ترقی میں ای سی او کے رکن ممالک کی مدد" اور "ای اور سی کے قابل رکن ممالک کے ساتھ تعاون جیسے کہ ترکی کا قابل تجدید پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے مشترکہ تحقیق یا آپریشنل منصوبوں پر عمل درآمد" سے متعلق رپورٹیں پیش کیں۔

نیز ایران میں قابل تجدید پاور پلانٹ کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاروں کا خیرمقدم سمیت "ترغیبی معاہدوں کو طے پانے کے ساتھ  ساتھ ای سی اور کے رکن ممالک کو بجلی کی برآمد میں مدد کرنا"، "قابل ایرانی نجی شعبے کو قابل تجدید پاور پلانٹس کے ڈیزائن اور تعمیر سے متعلق تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات اور مصنوعات برآمد کرنے پر تیار کرنا" اور "ای سی اوکلین انرجی سنٹر کے قیام میں مدد"؛ اس اجلاس میں اٹھائے گئے دیگر موضوعات تھے۔

ارنا رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر توانائی نے اس سے پہلے کہا تہا کہ آج؛ قابل تجدید توانائی کی توسیع ایک انتخاب نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcg7t9nyak9w74.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس