تاریخ شائع کریں2021 4 December گھنٹہ 20:19
خبر کا کوڈ : 529348

افغانستان میں دو کروڑ تیس لاکھ افراد کو شدید بھوک مری کے خطرے کا سامنا

افغانستان میں انسانی حقوق کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس ملک میں بھوک مری اس حد تک بڑھ گئی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بابر بلوچ نے خبردار کیا کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے مسائل کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے اور دس لاکھ بچے موت کے خطرے سے روبرو ہیں۔
افغانستان میں دو کروڑ تیس لاکھ افراد کو شدید بھوک مری کے خطرے کا سامنا
اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں دو کروڑ تیس لاکھ افراد کو شدید بھوک مری کے خطرے کا سامنا ہے۔

افغان نیوز ایجنسی آوا کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ترجمان برائے پناہ گزیناں بابربلوچ نے افغانستان کا دورہ کرنے کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہاں لاوارث خاندانوں کو گرم کپڑوں، گھروں کو گرم رکھنے کے لئے ایندھن، غذائی اشیاء اور دواؤں کی سخت ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس ملک میں بھوک مری اس حد تک بڑھ گئی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ بابر بلوچ نے خبردار کیا کہ افغانستان میں بڑھتے ہوئے مسائل کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے اور دس لاکھ بچے موت کے خطرے سے روبرو ہیں۔

اس سے قبل مغربی افغانستان کے شہر ہرات میں ڈاکٹرس ودھاؤٹ بارڈرز تنظیم نےاعلان کیا تھا کہ اس ملک میں کئی برس سے جاری جنگ اور جھڑپوں کی بنا پر اکثر افغان شہریوں کو ناقص غذاؤں کا سامنا ہے۔ افغانستان میں غربت و افلاس کے مسائل کے بارے میں انسان دوستانہ اور بین الاقوامی اداروں کے حکام کے بیانات ایسے حالات میں سامنے آ رہے ہیں کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک نے افغانستان کا کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کے بعد مختلف بہانوں سے اس ملک کے اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcayonma49nue1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس