تاریخ شائع کریں2021 28 November گھنٹہ 18:18
خبر کا کوڈ : 528564

چین کا آبدوز کی ٹیکنالوجی کی آسٹریلیا منتقلی پر تشویش کا اظہار

یہ بات سمجھ سے باہر ہے  کہ یہ ممالک کیوں اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران تین اعشاریہ سات فیصد سے زائد یورینیم کو افزودہ نہ کرے جبکہ خود نوے فیصد سے زائد افزودہ  کئی ٹن یورینیم آسٹریلیا منتقل کر رہے ہیں۔
چین کا آبدوز کی ٹیکنالوجی کی آسٹریلیا منتقلی پر تشویش کا اظہار
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں چین کے نمائندے نے ایٹمی معاملات میں امریکا اور یورپ کے دوہرے رویئے پر کڑی تنقید کی ہے۔

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں چین کے نمائندے وانگ کانگ نے امریکا اور یورپ کے دوہرے رویئے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے  کہ یہ ممالک کیوں اس بات کے خواہاں ہیں کہ ایران تین اعشاریہ سات فیصد سے زائد یورینیم کو افزودہ نہ کرے جبکہ خود نوے فیصد سے زائد افزودہ  کئی ٹن یورینیم آسٹریلیا منتقل کر رہے ہیں۔

چین کے نمائندے نے کہا کہ آکس سمجھوتے کے تحت ایٹمی آبدوز کی ٹیکنالوجی کی آسٹریلیا منتقلی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر عالمی برادری کو توجہ دینا چاہئے۔ وانگ کانگ نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے اس طرح سے ایٹمی ٹیکنالوجی کی آسٹریلیا منتقلی سے دیگر ملکوں کے ایٹمی پاور بننے کی ترغیب ہو رہی ہے۔

انھوں نے اس سے قبل بھی آکس سمجھوتے کے تحت ایٹمی آبدوز کی ٹیکنالوجی کی آسٹریلیا منتقلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس قسم کا اقدام دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اس بات کا دعویدار ہے کہ آسٹریلیا کو ایٹمی ہتھیار نہیں دیئے جائیں گے تاہم یہ ملک، آسٹریلیا کی ایٹمی آبدوزوں کو بآسانی ایٹمی میزائلوں سے لیس بھی کر رہا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcjmoeixuqe8iz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس