تاریخ شائع کریں2021 27 November گھنٹہ 15:06
خبر کا کوڈ : 528418

ایران کے لئے اسلام کے کسی بھی علاقے کی کمزوری تکلیف دہ ہے

ایرانی دینی مدارس کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران کو ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ جہاں تک ممکن ہو رابطہ اور تعاون بڑھانا چاہئےاور یہ بات مسلم ہے کہ ترکی میں شیعوں کی موجودگی یقینی طور پر اس ملک کے مفاد میں ہے۔شیعہ اہل منطق،فکر،عقل اور تعامل پسند ہیں اور یقیناً ترکی کے دوستوں کا اس فکری وزن،علم اور طاقت پر غور کرنا اور اس کو اہمیت دینا ترکی اور امت مسلمہ دونوں کے مفاد میں ہے۔
ایران کے لئے اسلام کے کسی بھی علاقے کی کمزوری تکلیف دہ ہے
حوزہ ہائے علمیہ ایران کے سربراہ آیۃ اللہ علی رضا اعرافی نے ترکی کے علماء اور دانشوروں کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ ترکیہ،عالم اسلام کے طاقتور ترین ممالک میں سے ایک اور اس ملک کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ایرانی دینی مدارس کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایران کو ترکی اور دیگر ممالک کے ساتھ جہاں تک ممکن ہو رابطہ اور تعاون بڑھانا چاہئےاور یہ بات مسلم ہے کہ ترکی میں شیعوں کی موجودگی یقینی طور پر اس ملک کے مفاد میں ہے۔شیعہ اہل منطق،فکر،عقل اور تعامل پسند ہیں اور یقیناً ترکی کے دوستوں کا اس فکری وزن،علم اور طاقت پر غور کرنا اور اس کو اہمیت دینا ترکی اور امت مسلمہ دونوں کے مفاد میں ہے۔فطری طور پر ترکی کا یہ اہم مقام ہمارے لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

آیۃ اللہ اعرافی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے اسلام کے کسی بھی علاقے کی کمزوری تکلیف دہ ہے،خواہ وہ سنی ہی کیوں نہ ہوں اور ہم سے دور ہی کیوں نہ ہوں۔ہم واقعتاً اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اقوام عالم میں امت مسلمہ کا ایک تشخص ہے جسے برقرار رکھنا ضروری ہے اور شیعہ علماء کا بھی یہی نظریہ ہے اور دوسری طرف ہمیں امید ہے کہ ترک حکام اور دیگر وہاں کے حضرات شیعہ علماء کے مقام ان کی علمی اور آزادی شناخت کو سرکاری طور پر تسلیم کریں گے۔

مجلس خبرگانِ رہبری کے رکن نے متعدد ترکی علمی،مذہبی اور سیاسی شخصیات سے ملاقات میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی مختلف ملاقاتوں میں کہا ہے کہ ان ملاقاتوں سے ترکی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا بلکہ آپ کی عزت اور اقتدار میں اضافہ ہوگا، آپ بھی شیعوں کو آزاد رہنے دیں تاکہ شیعہ بھی اپنی حیثیت اور شناخت کا مظاہرہ کر سکے۔

آیۃ ‌اللہ اعرافی نے اپنی گفتگو کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مجمع علمائے اہل بیت(ع)ترکی کے ایرانی علمی اور دینی مراکز سمیت یونیورسٹیوں کے ساتھ تعامل اور روابط پر روشنی ڈالی اور کہا کہ علمائے کرام کا دینی اور علمی مراکز سے رابطہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے اور اس کے نمونوں میں سے ایک جامعۃ المصطفی العالمیۃ ہے جسے آپ حوزہ علمیہ یا کوئی اور عنواں دیں آج قم میں اقوام عالم کے کثیر طلباء کی تربیت اور دین اسلام کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس ملاقات کی ابتداء میں مجمع علمائے اہل بیت(ع)ترکی کے اراکین نے ترکیہ میں اس مجمع کی جانب سے کی جانے والی مختلف سرگرمیوں پر مشتمل ایک رپورٹ پیش کی۔
http://www.taghribnews.com/vdchz6nm623nikd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس