تاریخ شائع کریں2021 21 October گھنٹہ 13:07
خبر کا کوڈ : 523625

اسلامی ممالک کو اقتصادی ، نظارتی اور کاروباری منڈیوں کی بڑی سیاستوں کی ضرورت ہے

انہوں نے اپنے بیان میں اسرائیل لبنان ۳۳ روزہ جنگ کا تذکرہ بھی کیا اور فلسطین کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور لبنان کے میزائلوں نے اسرائیل  کو بری طرح دھمکا دیا ہے۔
اسلامی ممالک کو اقتصادی ، نظارتی اور کاروباری منڈیوں کی بڑی سیاستوں کی ضرورت ہے
جنوبی افریقہ کے دانشور پروفیسر ہارون عزیز نے ۳۵ ویں بین الاقوامی وحدت اسلامی کانفرنس کے ویبیناری سلسلہ سے خطاب کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں افغانستان کی ۶۰۰۰ سالہ قدیمی تمدن کے بارے میں بات کی اور کہا کہ اس ملک میں کئی ایک قوموں کے وجود کے باوجود اسلام ان میں وحدت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے ٹرامپ اور طالبان کے معاہدہ کو امریکہ کی عقب نشینی سے تعبیر کیا اور کہا کہ اس جنگ نے امریکہ کے اقتصاد کو تباہ کر دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں اسرائیل لبنان ۳۳ روزہ جنگ کا تذکرہ بھی کیا اور فلسطین کی مزاحمت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور لبنان کے میزائلوں نے اسرائیل  کو بری طرح دھمکا دیا ہے۔

انہوں نے اسلام کو ایک مافوق ملیت واقعیت قرار دیا اور کہاں کہ یہ ایک  جہانی حقیقت ہے۔ اسلامی ممالک کو اقتصادی اور کاروباری سرگرمیوں کے لئے دنیا کے بڑے بازاروں کی ضرورت ہے  اور یہ کام اس طرح ہو کہ بین الاقوامی بانکوں کی دخالت اس میں نہ ہو۔
پروفیسر ہارون نے یہ بھی کہا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جس جس طرح انسان تمدن کی جانب بڑھتا ہے اسی طرح وحشی پن کی جانب بھی سفر کرتا ہے اور جنگ کی جانب مائل ہوتا ہے۔ ایسے میں صرف اسلام ہے جو صلح پر مبنی تمدن پیش کرتا ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcci1qpp2bqie8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس