تاریخ شائع کریں2021 5 December گھنٹہ 11:37
خبر کا کوڈ : 529415

امریکہ کا جمہوریت کے نام پر اجلاس

امریکہ کے اہداف و مقاصد میں ماضی کی نسبت کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور جو چیز تبدیل ہوتی آئی ہے وہ ان تسلط پسندانہ اہداف کے حصول کیلئے بروئے کار لائے جانے والے ہتھکنڈے ہیں۔
امریکہ کا جمہوریت کے نام پر اجلاس
تحریر: مرضیہ ہاشمی (اینکر پریس ٹی وی)
 
8 اور 9 دسمبر کے دن امریکہ میں پہلی بار نام نہاد جمہوریت کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے۔ یہ آن لائن اجلاس ہو گا جس میں امریکہ نے دنیا کو دو قسم کے ممالک یعنی جمہوری اور غیر جمہوری میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس اجلاس میں امریکہ ایسے ممالک کو شامل کر رہا ہے جو اس کے بقول جمہوری ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں غیر جمہوری ممالک قرار پا چکے ہیں۔ اس اجلاس کا چند پہلووں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ مذکورہ بالا اجلاس کے انعقاد کا مقصد دنیا پر امریکہ کی چوہدراہٹ کا دعوی کرنا ہے۔ دوسری طرف امریکہ نے ہمیشہ جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے مفاہیم کو اپنی برتری طلبی کیلئے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔
 
امریکہ چونکہ صنعتی اور فوجی مقاصد کا حامل ہے لہذا اسے ہمیشہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر جنگ میں مصروف رہنے کی ضرورت ہے تاکہ اس طرح اپنے اتحادیوں کیلئے اسلحہ سازی انجام دے کر انہیں جنگی سازوسامان فروخت کر سکے۔ اور جنگ شروع کرنے کیلئے امریکہ کے پاس بہترین بہانہ جمہوریت برآمد کرنا اور دنیا کے انسانوں کو آمر حکومتوں کے پنجوں سے آزادی فراہم کرنا ہے۔ لیکن گذشتہ چند سالوں کے دوران امریکی جنگوں، خاص طور پر افغانستان میں امریکی جنگ کے پوشیدہ اسباب امریکی عوام سمیت دنیا کے تمام انسانوں کیلئے واضح ہو چکے ہیں۔ وہ امریکہ جو عوام کی بھلائی چاہنے کا دعویدار تھا اچانک اور غیر متوقع طور پر افغانستان چھوڑ کر چلا گیا تاکہ یہ ملک خانہ جنگی کی آگ میں جل جائے۔ امریکہ نے بیس سال تک افغان عوام کے تحفظ کے بہانے اس ملک کو اپنے فوجی قبضے میں رکھا۔
 
لیکن افغانستان سے امریکہ کے اچانک فوجی انخلاء نے اس کے اصل عزائم کو واضح کر دیا جس کے سبب عالمی سطح پر امریکہ کی حیثیت کو شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ آج امریکہ جمہوریت کے نام پر اجلاس منعقد کر کے دنیا میں جمہوریت کے علمبردار کے طور پر اپنی حیثیت کا اعادہ کرنے کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔ فروری میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ جمہوریت اتفاقی طور پر پیدا نہیں ہوتی اور ہمیں اس کے دفاع کیلئے جنگ کرنا ہو گی اور اسے طاقت عطا کرنی ہو گی اور اسے فروغ دینا ہو گا۔ دوسرا اہم نکتہ یہ سوال ہے کہ آیا وہ حکومت جو اس اجلاس کی میزبان ہے اور خود کو اس اجلاس کا سربراہ سمجھتی ہے خود جمہوریت کی بنیاد پر تشکیل پائی ہے یا نہیں؟
 
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں امریکہ کا انتخابی نظام الیکٹورل ووٹنگ پر استوار ہے اور یہ تمام افراد کے ووٹ کی مساوی حیثیت کا نظام نہیں ہے۔ امریکہ کے اس الیگارشی نظام میں اثرورسوخ کے مالک کچھ محدود افراد اصل فیصلے کرتے ہیں۔ یہ جمہوری یا ڈیموکریٹک نظام نہیں ہے۔ امریکہ کا سیاسی نظام درحقیقت ایک پلوٹوکریسی یا دولت پرستانہ ہے۔ لہذا ایسا ملک جمہوری ممالک کی لیڈرشپ کا دعوی نہیں کر سکتا۔ جمہوریت کے اجلاس پر امریکہ کی سربراہی اور سرپرستی ہی اس کی حیثیت ختم کر دینے اور سربراہان مملکت اور رائے عامہ کی نظروں میں اس کا اعتبار ختم ہو جانے کیلئے کافی ہے۔ دوسری طرف دنیا میں امریکہ کی جانب سے جمہوریت کو اپنے مفادات کے حصول کیلئے ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کئے جانے کے بارے میں آگاہی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
 
ایک اور مسئلہ جو اس اجلاس کی حیثیت اور اعتبار ختم کر دینے کیلئے کافی ہے وہ کسی ملک کے جمہوری اور غیر جمہوری ہونے کا پیش کردہ معیار ہے۔ یہ معیار اپنی قوم کے مطالبات کا احترام کرنے اور انسانی حقوق کی بجائے امریکہ کے اتحادی ہونے اور امریکہ کے ساتھ مشترکہ اہداف کے حامل ہونے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا اجلاس کے بارے میں ایک اور اہم نکتہ اس کا بظاہر سفارتی رنگ کا حامل ہونا ہے۔ امریکہ کا یہ اقدام سرد جنگ سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔ آپ دیوار برلن جیسی دیوار کا تصور کریں جو اس بار غیر محسوس انداز میں دو قسم کے ممالک کے درمیان کھینچی جا رہی ہے۔ اس دیوار کے ایک طرف ایسے ممالک ہیں جنہیں امریکہ نے جمہوریت کا تمغہ عطا کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف ایسے ممالک ہیں جو امریکہ کی مورد نظر جمہوریت کے حامل نہیں ہیں۔
 
امریکہ کے اہداف و مقاصد میں ماضی کی نسبت کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور جو چیز تبدیل ہوتی آئی ہے وہ ان تسلط پسندانہ اہداف کے حصول کیلئے بروئے کار لائے جانے والے ہتھکنڈے ہیں۔ کسی جگہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے استعماری اہداف حاصل کرنے کیلئے براہ راست فوجی طاقت کا استعمال کرتے ہیں، کسی جگہ دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں، کسی جگہ اہم فوجی اور علمی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کرتے ہیں، کسی جگہ اقوام کو آپس میں لڑا کر خانہ جنگی پیدا کرتے ہیں، کسی جگہ دہشت گرد گروہ تشکیل دیتے ہیں اور کسی جگہ سفارتی طریقہ کار اپناتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جمہوریت کے نام پر اجلاس منعقد کروا کر امریکہ اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور اعتبار واپس نہیں لوٹا سکتا۔ الٹا یہ امریکی اقدامات چین، روس اور ایران کو مشرق پر زیادہ توجہ دینے کی ترغیب دلائیں گے اور یہ مسئلہ امریکہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔
http://www.taghribnews.com/vdcfy1dttw6d0ja.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس