تاریخ شائع کریں2021 28 November گھنٹہ 20:39
خبر کا کوڈ : 528579

کیا جنگ کی دھمکی امریکی میز سے اٹھا لی گئی ہے؟

خطے کے مبصرین کے خیال میں، جس قدر کہ ویانا مذاکرات کے ساتویں دور کے لئے مقررہ تاریخ قریب تر آرہی ہے؛ فوجی کاروائی کی دھمکی کی چاشنی کے ساتھ اس قسم کی امریکی سیاسی مشقوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ امریکی ایران کے مقابلے میں تزویراتی ابتری (Strategic Mess) سے دوچار ہوئے ہیں۔
کیا جنگ کی دھمکی امریکی میز سے اٹھا لی گئی ہے؟
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

"سفارتکاری کی کھڑکی ہمیشہ کھلی نہیں رہے گی؛ تمام آپشن میز پر ہیں وغیرہ"؛ یقینا آپ نے بھی معمول کے ان امریکی جملوں کو بارہا سن رکھا ہوگا۔ ایران کے امور میں امریکی نمائندے رابرٹ مالی اور موجودہ وزیر دفاع لوئڈ آسٹین نے حالیہ ہفتوں میں یانکیوں کی اصل ذات کو دنیا کے سامنے عیاں کرتے ہوئے بزعم خود ایران کو دھمکیاں دیں ہیں اور ان گھسے پٹے جملوں کو دہرایا ہے۔

خطے کے مبصرین کے خیال میں، جس قدر کہ ویانا مذاکرات کے ساتویں دور کے لئے مقررہ تاریخ قریب تر آرہی ہے؛ فوجی کاروائی کی دھمکی کی چاشنی کے ساتھ اس قسم کی امریکی سیاسی مشقوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے کیونکہ امریکی ایران کے مقابلے میں تزویراتی ابتری (Strategic Mess) سے دوچار ہوئے ہیں۔

امریکیوں نے حالیہ دو عشروں میں مزاحمت کو قابو میں لانے کی کوششیں آزما لی ہیں اور ہر بار انہیں ناکامی کے سوا کچھ نہ ملا ہے اور پسپا ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کارنگی کارنیگی فاؤنڈیشن (Carnegie Foundation) نے اپنی رپورٹ میں موجودہ صورت حال کے بارے میں لکھا ہے: "وائٹ ہاؤس کی طرف سے پابندیوں، دھمکیوں اور قاتلانہ حملوں [دہشت گردی] جیسے اوزاروں کا کئی عشروں سے جاری استعمال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکا اور ایرانی (بمع اسلامی مزاحمت) روز بروز عظیم سے عظیم تر ہوئے ہیں اور آج پہلے سے زیادہ، قابو سے باہر ہیں"۔

امریکی سلامتی کی تزویرات میں ابتری کا ایک زاویہ

نیویارک ٹائمز نے ان دنوں کی امریکی تزویراتی الجھنوں کے بارے میں ایک دلچسپ تبصرہ پیش کیا ہے اور لکھا ہے: "امریکی حکام نے اپنے اسرائیلی ہم منصبوں سے کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر مسلسل حملے شاید جنگی چال کے طور پر اطمینان بخش ہو لیکن آخرکار اس کا نتیجہ معکوس ہے اور ایران تیزی سے اپنی تنصیبات کی تعمیر نو کرتا ہے اور انہیں پہلے سے جدیدتر اور پیشرفتہ تر بنا دیتا ہے۔۔۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ ایرانی ہر خطرے کو بہترین مواقع میں تبدیل کرتے ہیں؛ انہیں جب بھی نقصان پہنچایا گیا ہے، پہلے سے زیادہ طاقتور ہوئے ہیں اور زیادہ طاقت اور ترقی کے زیادہ بہتر جذبے کے ساتھ دوبارہ میدان میں آئے ہیں"۔

نیویارک ٹائمز نے اس رپورٹ میں صہیونیوں کی طرف کی چند تخریبی کاروائیوں کو بطور مثال پیش کرتے ہوئے لکھا ہے: "اسرائیل نے شہید ڈاکٹر محسن فخری زادہ جیسے جوہری سائنسدانوں پر قاتلانہ حملوں اور ایران کی بعض جوہری تنصیبات میں ہونے والی تخریبی کاروائیوں میں کردار ادا کیا ہے۔ اس طرح کی اندھی کاروائیاں نہ صرف ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے میں مؤثر ثابت ثابت نہیں ہوئی ہیں بلکہ نقصانات کے تیزرفتار ازالے اور خرابیوں کو زيادہ ترقی یافتہ اور جدید صورت میں میں تعمیر کرنے کے سلسلے میں ایران کی فنی صلاحیتوں میں اضآفہ ہؤا اور سائنس کو زیادہ ترقی یافتہ شکل میں مقامیایا گیا؛ جیسا کہ نطنز اور کرج میں میں صہیونیوں کی تخریبی کاروائیوں کے بعد یورینیم کی افزودگی 60٪ تک پہنچی اور ان تنصیبات میں جدیدترین سینٹری فیوجز نصب کئے گئے۔

سینٹ کام دہشت گردوں کے کابل ایئرپورٹ سے فرار کے بعد خطے میں امریکیوں کا تزویراتی ضعف عیاں ہوچکا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے کیمروں نے امریکہ کی بےوقری اور رسوائی اور امریکی فوجی دبدبے کے کھوکھلے پن اور جھوٹی شان و شوکت کو دنیا والوں کے سامنے رکھا۔ دنیا کے بہت سارے لوگ جان گئے کہ امریکی ٹائیگر کا رعب و دبدبہ کھوکھلا اور جھوٹا تھا اور یہ کہ امریکہ ہالی ووڈ کی ماوراء الارضی اور خلائی فلموں کی دنیا سے بہت زیادہ مختلف ہے، وہ خیال ہے اور حقیقت یہ ہے۔ زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی افغانستان پر 20 سالہ قبضہ جمائے رہنے کے بعد، میدان میں اپنی شکست آشکار کرنے پر مجبور ہوئے اور اپنی ہار کو اعلانیہ طور پر تسلیم کیا۔

نیوزویک نے امریکی افواج پر لگنے والی ضربوں اور اس کے رعب کا ڈومینو گرنے کے بعد سوال اٹھایا ہے: "کیا بائیڈن انتظامیہ کابل سے فرار، شام کے التنف اور عراق میں عین الاسد اور الحریر کے اڈوں پر حملوں کا پیغام وصول کر رہی ہے؟ کیا شام اور عراق سے جلد از جلد امریکی انخلاء کی ضرورت کا ادراک کر سکی ہے؟ امریکہ داعش سے نمٹنے کے بہانے ایران پر قابو پانا چاہتا تھا لیکن اس کو شکست ہوئی اور ایران مزید طاقتور ہؤا اور امریکی افواج پر مسلسل حملوں کا آغاز ہؤا؛ کیا ایران پر قابو پانے کی ناکام کوشش اس قابل تھی کہ جس کے لئے اتنی بڑی قیمت ادا کی گئی؟ امریکی وزارت دفاع کے حکام ان سوالات کا جواب خوب جانتے ہیں: بالکل اسی وقت، جب ٹرمپ نے ایران کے 52 مقامات پر حملوں کی دھمکی دی، فائیو اسٹار جنرل الیگزینڈر ملی نے ایک مضمون میں لکھا: 'پینٹاگون جوہری بٹن امریکی صدر ٹرمپ کے حوالے نہیں کرے گا'۔ امریکی کمانڈر کا اشارہ اس اہم نکتے کی طرف تھا کہ 'اگر ایران کو اس سطح پر حملہ کرنے کے عوض امریکہ کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی"۔

ضَربِ اَنگُشت کا جواب کاری ضرب ہے

ایک لاطینی کہاوت ہے: "روشنی کے انعکاس کا اثر، اس کی براہ راست تابکاری سے زیادہ تکلیف دہ ہے"۔ اب خطے میں 20 سال کی فضول مہم جوئی کے بعد امریکی حکام نے محسوس کیا ہے کہ ایران کی سرحدوں پر جاسوسی کی پناہ گاہ بنانے کی قیمت بہت بھاری ہے۔

براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ فار پبلک افیئرز اینڈ انٹرنیشنل افیئرز نے رپورٹ دی ہے کہ سنہ 2001ع‍ کے موسم خزاں سے سنہ 2020ع‍ کے آخر تک افغانستان میں امریکی جنگ کی لاگت تقریباً 2.26 ٹریلین ڈالر تھی۔ امریکیوں کو خطے میں - بڑی رقوم صرف کرنے کے باوجود مطلوبہ حصولیابیوں میں ناکامی کی وجہ سے - اپنی تزویراتی منصوبہ بندیوں میں الجھن کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

حال ہی میں پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے امریکیوں کو لگائے گئے اسلامی جمہوریہ ایران کے 9 بھاری اور تزویراتی دھچکوں سے پردہ اٹھایا؛ حال ہی میں پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر نے امریکیوں کو لگائے گئے اسلامی جمہوریہ ایران کے 9 بھاری اور تزویراتی دھچکوں سے پردہ اٹھایا۔

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ 1+4 کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر ہی، دشمن - دھمکیوں کے الٹے نتائج سے آگاہ ہونے کے باوجود - ایک بار پھر کیوں چھڑی اور گاجر کے نظریئے کا آزمانا ضروری سمجھنے لگا ہے؟ اور دوسری طرف سے، بحرین میں بیٹھ کر تہران کو دھمکیاں کیوں دے رہا ہے؟ اور اسی اثناء میں واشنگٹن میں صہیونی ریاست کے حکمرانوں کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سامنے آ کھڑا ہونے سے روک کیوں رہا ہے؟

اس موضوع کے لئے دو منظرنامے فرض کئے جاسکتے ہیں؟

1۔ امریکی ویانا مذاکرات میں غیرپیشہ ورانہ انداز سے داخل ہوئے ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایرانی سفارت کار "عارضی معاہدے" کا دھوکہ نہیں کھائیں گے۔ بائیڈن کی ٹیم اس حتمی نتیجے پر پہنچی ہے کہ تہران نے تمام پابندیاں اٹھانے کے علاوہ کوئی بھی تجویز قبول کرنے کے لئے تیار کی ہے اور وہ جامع مشترکہ منصوبۂ عمل (Joint Comprehensive Plan of Action [JCPA])) کی بحالی کے لئے کوئی بھی دوسرا متبادل قبول نہیں کرے گا۔ جب تک کہ وائٹ ہاؤس سنہ 2015ع‍ کے زیر آور (zero hour) پر واپس نہیں آئے گا اس وقت امریکیوں کو کوئی بھی نئی تجویز دینے اور مذاکرات میں شریک ہونے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ چنانچہ اب امریکیوں نے مثبت اشارے دینا کا سلسلہ شروع کیا ہے اور وہ عسکری دھمکی کا آپشن مکمل طور پر نظر انداز کرکے JCPA میں دوبارہ شامل ہونے کے لئے راستہ ہموار کررہے ہیں۔ تہران بھی بخوبی جانتا ہے کہ واشنگٹن مزید چھڑی اور گاجر کی پالیسی اپنانے سے عاجز ہے، جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی شیخیاں صرف اس سے امید لگائے بیٹھنے والے صہیونیوں اور کچھ عرب حکمرانوں کو خوش کرسکتی ہیں۔

2۔ دوسرا منظرنامہ زیادہ قابل توجہ ہے: امریکیوں کو شدت کے ساتھ تشویش ہے کہ صہیونیوں کے اندھی کاروائیوں کی رہنمائی اور انتظام کی ذمہ داری کو واشنگٹن کے کھاتے میں درج کیا جائے۔ سینٹ کام ٹیررسٹوں کے کمانڈر نے حال میں کہا ہے کہ "التنف کے اڈے پر ہلاکت خیز کاری ضرب - در حقیقت شام میں ایرانی مفادات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں - لگائی گئی ہے"۔ جنرل کینتھ مک کینزی کا کہنا تھا کہ "التنف پر حملہ کرنے والے ڈرون بیرنگ اور لوہے کے ٹکڑوں سے بھرے ہوئے تھے اور انہیں واضح طور پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا، اور امریکیوں کو تل ابیب کی کارروائیوں کا بدلہ چکانا پڑ رہا ہے"۔

امریکیوں کو سلامتی کے حوالے سے شدید پریشانی اور ابتری کا سامنا ہے۔ اسی اثناء میں بحرین میں منعقدہ "منامہ اجلاس" میں امریکی وزیر دفاع کی دھمکیاں امریکی وزیر دفاع کی دھمکیاں، علاقائی مزاحمت کے سامنے ان کی اسٹریٹجک گہرائی سے زیادہ، ریپبلکن حریف کی جانب سے شدید تنقید سے نمٹنے کی بائیڈن پالیسی کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ دھمکیاں صرف امریکہ کے اندر گھریلو مصرف رکھتی ہیں۔ ادھر سی آئی اے کے مرکز میں "ایران ڈیسک کی بندش" اور "براہ راست جنگ سے پرہیز" کی پالیسیوں کا سہارا لینا، بائیڈن کی حالیہ سیکورٹی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

بیرون ملک سلامتی میں یہ تزویراتی ابتری امریکیوں تک محدود نہیں ہے۔ صہیونی ریاست بھی حالت زار اور جمود سے دوچار ہے اور صہیونیوں کا دانت دکھانا ان کی طاقت کا اظہار نہیں ہے۔ صہیونی ریاست کے چینل I-24 نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے: "ایرانی برسوں سے اسرائیلی انٹیلی جنس کی مختلف تہوں میں گھس چکا ہے؛ یہاں تک کہ ایران کی جدید سائبر پاور کا موازنہ صرف امریکی سائبر پاور سے کیا جا سکتا ہے۔"

سائبر پاور خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی "سمارٹ پاور" کی عمارت کا صرف ایک جزو ہے۔ غیر ملکی جائزوں میں فضائی طاقت کو صہیونی ریاست کی طاقت کی علامت قرار دیا گیا ہے؛ لیکن یہ جائزے اس وقت دھڑام سے زمین پر آرہے جب فلسطین کی عوامی مزاحمت نے کم از وسائل اور سہولیات کے ساتھ مقبوضہ علاقوں میں میں ہونے والی آخری معرکہ آرائی میں دشمن کے اسٹریٹجک بازو (فضائی قوت) کو نشانہ اور ناکارہ بنایا۔ یہاں تک کہ یدیعوت احرونوت (Yedioth Ahronoth) نے اپنے تجزیئے میں لکھا: "اسلامی مزاحمت نے اسرائیلی فوج کو قضا میں مفلوج کرکے رکھ دیا۔ جہاں ہمیں اپنی بالادستی کی توقع تھی"۔ اخبار نے مزید لکھا: "اگر نیتن یاہو نے جنگ بندی کے منصوبے کو قبول نہ کرتا تو زیر زمین پناہ گاہیں 80 لاکھ صہیونیوں کا مدفن بن جاتیں؛ اس 12 روزہ جنگ میں یہ بات واضح ہوگئی کہ صہیونی ریاست کے سماجی قوت کے مراکز کی برداشت کی سطح تیزی سے گر گئی ہے"۔

اسلامی مزاحمت کی سائبر اور میزائل قوت نے، سنہ 1977ع‍ کے بعد پہلی بار ثابت کیا کہ "بیگن ڈاکٹرائن (Begin Doctrine)" اپنی افادیت کھو چکی ہے۔ اس نظریئے کے مطابق اسرائیل اپنی پوری قوت کو بروئے کار لائے گا کہ کوئی بھی دوسرا علاقائی کھلاڑی کبھی بھی اسرائیل کی سطح کی تسدیدی صلاحیت تک رسائی حاصل نہ کرسکے۔

ادھر صہیونی ریاست کی عسکری خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ مئیر داگان نے ایک ٹی وی شو میں کہا: "حتی کہ وزیر اعظم بینٹ بھی جانتا ہے کہ ایران کے مقابلے میں ہمارے بہت سے اقدامات بیان بازی کی حد تک ہوتے ہیں ۔۔۔ ہمیں ایسے زیرک لوگوں کا سامنا ہے جنہیں ہم کم نہیں سمجھ سکتے۔۔۔ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ معاہدہ اس طرح سے ہونا چاہئے کہ کوئی بھی نیا امریکی صدر اس سے الگ نہ ہوسکے۔۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایرانی اس وقت [جوہری] سائنس میں اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ آپ اسے ان کے دماغ سے نہیں نکال سکتے"۔

بہرحال بالکل فطری ضابطے کے مطابق، جس قدر کہ امریکی اس خطے میں تزویراتی پریشانی سے دوچار ہوئے ہیں، صہیونی ریاست اتنا ہی فرسودگی اور تھکاوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ یہ صورت حال ہر روز پچھلے دن سے زیاد، امریکیوں اور اسرائیلیوں پر زیادہ سے زیادہ اخراجات ٹھونس دیتی ہے۔ بیت المقدس میں شہید فادی ابو شخدیم کی شہادت طلبانہ کاروائی اس دعوے کی ناقابل انکار مثال ہے۔ اس چھوٹی مگر نتیجہ خیز کاروائی کا پیغام شاید تجزیہ کاروں نے اچھی طرح نہ سمجھا ہو مگر صہیونی ریاست کے سرغنے بخوبی جانتے ہیں کہ اس کاروائی کے ساتھ ہی حالات نئے دور میں داخل ہوئے ہیں اور آج سے اسرائیل پورے مغربی کنارے کو مسلح کرنے کا خطرہ محسوس کرتا رہے گا۔
http://www.taghribnews.com/vdcfecdt1w6d0ta.k-iw.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس