تاریخ شائع کریں2021 15 October گھنٹہ 20:48
خبر کا کوڈ : 522785

امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں بہت اتار چڑھاو

اگر چین کو ٹرانس پیسیفک معاہدے میں رکنیت حاصل ہو جاتی ہے تو چین ایشیا پیسیفک کے دو اہم تجارتی معاہدوں کا رکن بن جائے گا۔ یہ واقعہ ایشیا کی جیواکانومکس میں چین کی حیثیت بڑھا دے گا۔ البتہ امریکہ اس خطے میں چین کے اقتصادی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے ڈیجیٹل ٹریڈ نامی نیا معاہدہ تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہے۔
امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں بہت اتار چڑھاو
تحریر: محمد تقی زادہ
بشکریہ:اسلام ٹائمز

 
امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات میں بہت اتار چڑھاو آئے ہیں۔ چین کا خطے اور عالمی سطح پر ایک سپر پاور کے طور پر ابھر کر سامنے آنے سے امریکہ کی طاقت اور اثرورسوخ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ امریکہ نے 1992ء میں عالمی سطح پر سابق سوویت یونین کے بغیر دنیا کیلئے نئی ڈاکٹرائن کا اعلان کیا۔ یہ ڈاکٹرائن ابھرتی ہوئی نئی طاقتوں کو دنیا کے اہم اور اسٹریٹجک حصوں پر قابض ہونے سے روکنے پر استوار تھی۔ ان میں خاص طور پر ایسے علاقے شامل تھے جو قدرتی ذخائر سے مالا مال ہونے کے ناطے عالمی طاقت کا سرچشمہ بن سکتے ہیں۔ نومبر 1996ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے چین کا مستقبل روشن قرار دیتے ہوئے مضبوط اور ذمہ دار چین کو امریکی خواہش قرار دیا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی پیش کیا کہ آیا آئندہ صدی (اکیسویں صدی) امن اور تعاون کی صدی ثابت ہو گی؟
 
نائن الیون حادثات رونما ہونے کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ میں تعلقات فروغ پائے۔ اس دوران امریکی پالیسی میکرز نے اپنی پوری توجہ جوہری ہتھیاروں جیسے ایشوز پر مرکوز رکھی۔ یوں دکھائی دے رہا تھا کہ امریکہ چین کے ساتھ اسٹریٹجک مقابلہ بازی پر کم توجہ دے رہا ہے۔ نائن الیون کے وقت امریکی صدر جرج بش نے اعلان کیا تھا کہ ان دہشت گردانہ اقدامات کے بعد عالمی طاقتوں نے مشترکہ خطرات کو اپنی توجہ کا مرکز بنا رکحا ہے اور وہ مشترکہ اقدار پر متحد ہو چکی ہیں۔ لیکن جب عالمی سطح پر چین ایک اقتصادی طاقت بن کر ابھرا تو چند سال کے اندر ہی اس اتحاد کی جگہ مقابلہ بازی نے لے لی۔ بہرحال، امریکہ اور چین کے درمیان سرد جنگ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زمانے میں اپنے عروج پر جا پہنچی۔
 
جو بائیڈن نے برسراقتدار آنے کے بعد نہ صرف چین سے متعلق پالیسی میں ڈونلڈ ٹرمپ کا راستہ ہی جاری رکھا بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت اقدامات کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے چین کے خلاف گذشتہ سے عائد شدہ اقتصادی پابندیوں کو جاری رکھتے ہوئے پینٹاگون کو چین سے ہر ممکنہ فوجی جھڑپ کیلئے پوری طرح تیار رہنے کا حکم جاری کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے چین کے خلاف جاپان سے اتحاد قائم کیا۔ جو بائیڈن کی حکومت آج بھی 1974ء میں اس منظور شدہ قانون 301 کے ذریعے چین پر دباو ڈالنے میں مصروف ہے جس میں 2018ء میں چند تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ اس قانون کی روشنی میں امریکی صدر کو ایسی حکومتوں کے خلاف مختلف قسم کے اقتصادی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہے جو فری ٹریڈ اور عالمی تجارت کے قوانین کی پیروی نہیں کرتیں۔
 
جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی حکومت کا دعوی ہے کہ چین غیر منصفانہ انداز میں اپنے صنعتی کارخانوں کو وسیع پیمانے پر سبسڈی دینے میں مصروف ہے۔ لہذا امریکی حکام ایسا منصوبہ تیار کر رہے ہیں جس کے تحت چینی حکومت کی جانب سے اپنے صنعتی مراکز کو دی جانے والی سبسڈی کی تحقیق کر سکیں اور اس تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنیاد پر چین پر نئی پابندیاں عائد کر سکیں۔ دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان جیو اکانومک مقابلہ بازی بھی بہت زیادہ شدت اختیار کر چکی ہے۔ ایسی فضا میں دونوں ممالک ایکدوسرے کے خلاف مختلف ہتھکنڈے بروئے کار لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سرد جنگ میں چین امریکہ کے دوست ممالک میں اقتصادی اثرورسوخ بڑھانے کے درپے ہے اور انہیں بیجنگ اور واشنگٹن میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
 
گذشتہ ہفتے چین نے ٹرانس پیسیفک جامع تعاون کے معاہدے (CPTPP) میں رکنیت کی درخواست دی ہے۔ Comprehensive and Progressive Agreement for Trans-Pacific Partnership نامی معاہدہ گذشتہ ایک عشرے سے عالمی سطح پر چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثرورسوخ کو روکنے کیلئے سرگرم عمل رہا ہے۔ حال ہی میں امریکہ نے اس معاہدے کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ بظاہر جو بائیڈن حکومت اس معاہدے میں واپس جانے کی خواہاں دکھائی نہیں دیتی۔ ایسے حالات میں چین نے اس معاہدے میں شامل ہونے کو مناسب دیکھتے ہوئے اس میں رکنیت کی درخواست دی ہے۔ مزید برآں، چین علاقائی اقتصادی تعاون نامی تجارتی معاہدے کی سربراہی کر رہا ہے۔ یہ معاہدہ 2019ء میں انجام پایا تھا اور اس وقت دنیا میں آزاد تجارت کے اہم ترین معاہدے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
 
اگر چین کو ٹرانس پیسیفک معاہدے میں رکنیت حاصل ہو جاتی ہے تو چین ایشیا پیسیفک کے دو اہم تجارتی معاہدوں کا رکن بن جائے گا۔ یہ واقعہ ایشیا کی جیواکانومکس میں چین کی حیثیت بڑھا دے گا۔ البتہ امریکہ اس خطے میں چین کے اقتصادی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کیلئے ڈیجیٹل ٹریڈ نامی نیا معاہدہ تشکیل دینے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اس بارے میں روزنامہ گارجین کے تجزیہ نگار سائیمن ٹیسڈل لکھتے ہیں: "بائیڈن چین کے خلاف اپنے اتحادیوں کو متحد کرنے کیلئے بہت جلدی میں ہیں اور وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ایک نہ ایک دن دھماکہ ہو کر رہے گا۔" وہ مزید لکھتے ہیں: "واشنگٹن اس حقیقت کو قبول کر چکا ہے کہ ایک آزاد جمہوری چین کے تشکیل پر مبنی آرزو مکمل طور پر دم توڑ چکی ہے۔"
http://www.taghribnews.com/vdcivrawwt1ary2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس