تقريب خبررسان ايجنسی 27 Nov 2021 گھنٹہ 17:04 http://www.taghribnews.com/ur/news/528434/روسی-مندوب-کی-ایران-کے-حوالے-سے-امریکہ-دھمکی-آمیز-بیان-مذمت -------------------------------------------------- ٹائٹل : روسی مندوب کی ایران کے حوالے سے امریکہ دھمکی آمیز بیان کی مذمت -------------------------------------------------- میخائیل اولیانوف نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پیرس کانفرنس میں کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی تحمل سے کام نہیں لے رہے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو خود  کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ متن : اقوام متحدہ میں روسی مندوب نے ایران کے حوالے سے امریکہ کے دھمکی آمیز بیان کو غیر تعمیری قرار دیتے ہوئے اسکی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈ کوارٹر میں روس کے مندوب میخائیل اولیانوف نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایران کی جانب سے عدم تعاون کی صورت میں بورڈ آف گورنرز کا ہنگامی اجلاس تشکیل دینے کی امریکی دھمکی تعمیری نہیں ہے۔ میخائیل اولیانوف نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پیرس کانفرنس میں کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی تحمل سے کام نہیں لے رہے ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کو خود کو قابو میں رکھنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں امریکی وفد کے اس خاص بیان کا خیرمقدم نہیں کرتا اور یہ تعمیری نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ویانا ہیڈا کوارٹر میں امریکی نمائندے نے ایران پر ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا الزام لگایا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا توآئی اے ای اے کا بورڈ آف گورنرز اس بحران کا جائزہ لینے کے لئے ہنگامی اجلاس تشکیل دے گا۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ صدرِ ایران سید ابراہیم رئیسی کے دور صدارت میں ایران اور گروپ چار جمع ایک کے مابین انتیس نومبر سے مذاکرات کا پہلا دور شروع ہو رہا ہے اور ایران نے اعلان کیا ہے کہ تمام پابندیوں کا خاتمہ ان مذاکرات میں ایرانی وفد کا سب سے اہم ایجنڈا ہوگا۔ ایران کے سابق صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے دور صدارت میں ویانا میں ایران اور گروپ چار جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے چھے دور انجام پائے تھے لیکن وہ مذاکرات بعض نامعقول موقف پر امریکہ کے اصرار کے باعث ناکام ہوگئے تھے۔ امریکہ کی جوبایڈن حکومت کا دعوا ہے کہ وہ ویانا مذاکرات کے ذریعے جامع ایٹمی معاہدے کی جانب اپنے ملک کی واپسی کی زمین ہموار کرنا چاہتی ہے۔ لیکن بائیڈن کے دور صدارت میں بھی امریکہ نے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی ترک کرنے کے لئے لازمی اقدامات انجام نہیں دیئے ہیں۔